دربھنگہ 7/ مارچ (پریس ریلیز/ایس او نیوز) منگل کو دن کے 11 بجے مدرسہ امدادیہ دربھنگہ ، بہار سے لاکھوں کی تعداد میں ہاتھوں میں تختی اور بینر لئے مسلم خواتین کا خاموش احتجاجی جلوس نکالا گیا۔جس میں دربھنگہ کی لاکھوں خواتین نے حصہ لیا ۔ مسلم خواتین کا سیلاب جب دربھنگہ کمشنر کے دھرنا گاہ میدان میں جمع ہوا تو کئی گھنٹوں تک دربھنگہ پوری طرح سے جام ہوگیا۔
جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مسلم خواتین نے موجودہ مرکزی حکومت سے تین طلاق پر بنایا گیا سیاہ قانون کو فوراً واپس لینے کی مانگ کی اور حکومت کو اس بات کی بھی وارننگ دی کہ شریعت اسلامیہ میں مداخلت وہ ہرگز برداشت نہیں کریں گی۔ خواتین نے واضح کیا کہ ہمیں جان سے بڑھ کر ہماری شریعت عزیز ہے۔ حکومت اگر مسلم خواتین کو واقعی حقوق دلانا چاہتی ہے تو عورتوں، مردوں اور ہمارے بچوں کو تعلیم سے جوڑے اور مسلم مردوں کو روزگار مہیا کرائے، ساتھ ہی مسلم خواتین کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
میدان میں ہجوم کا یہ عالم رہا کہ دھرناگاہ میدان میں لوگوں کو پاؤں تک رکھنے میں دشواری ہورہی تھی۔جلوس سبھی مکتبہ فکر کے علماء کرام کی قیادت میں نکالا گیا۔ جلوس میں بڑی تعداد میں سماجی کارکن، سیاسی لیڈر، تمام فلاحی اور ملی تنظیموں کے سربراہ، امام و خطیب، دانشوران، امن پسند عوام اور تمام مدارس کے ذمہ داروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
جلوس کو کامیاب بنانے میں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم، بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے سابق چیئرمین مولانا اعجازاحمد، انصاف منچ کے ریاستی نائب صدر نیازاحمد، بہاراسٹیٹ مومن کانفرنس کے سکریٹری شاہداطہر، اقلیت جاگرن سوسائٹی کے جنرل سکریٹری اسرارالحق لاڈلے، جمعیۃ الراعین کے کوآرڈی نیٹر راحت علی، المدد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے انجینئرفخرالدین قمر، مقصودعالم پپو خان، مولانا ایس ایم ضیاء، قاری محمدسعید ظفر، جاویدکریم ظفر، سبھان خان، راجد کے ضلع کوآرڈی نیٹر رام چندریادو، محمدکلام (راجد)، محمداحسان، مرتضیٰ راعین، محمدشہزادے عرف سردار، صفی الرحمن راعین ایڈوکیٹ، صوفی زاہد حسین، ساجدقیصر، مہدی رضا روشن القادری، محمدارمان، محمدحسنین، سیدمظفررضا(ضلع قبرستان و مزار کمیٹی، دربھنگہ)، علی حسن انصاری، انجمن کاروانِ ملت کے سربراہ ریاض خان قادری، مولانا ابوالحقانی کی پوری ٹیم نے طاقت جھونک دی تھی اور اللہ پاک نے زبردست کامیابی سے نوازا۔
مسٹرنظرعالم کی پوری ٹیم نے دربھنگہ ضلع کے دیہی اور شہری حلقہ کے تمام مسلم خواتین اور مردوں کو مبارکباد دی اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے سبھی تنظیموں، لیڈروں، سماجی کارکنوں، مدارس کے ذمہ داروں، فلاحی و ملی تنظیموں، امام و خطیب اور دانشوروں نے اپنی حمایت دی ہے تو یقیناًحکومت کو سیاہ قانون کو واپس لینے کے لئے مجبور ہونا پڑے۔ گا۔ جلسہ کے اختتام پر دربھنگہ ضلع کلکٹر کو مسلم خواتین کے ایک وفد نے میمورنڈم پیش کیا ۔ خواتین کے وفد میں ڈاکٹرحناآرزو، ریشما تبسم، ڈاکٹر طلعت ناہد، عالمہ ثروت فاطمہ، ندرت جہاں، عارفہ فیروز شامل تھیں۔